اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ یورینیم کی افزودگی کے ایرانی حق، تہران کے خلاف پابندیوں کے خاتمے کی ضرورت اور ایران کا جوہری پروگرام جاری رہنے کو گروپ پانچ جمع ایک کے تمام رکن ملکوں نے قبول کرلیا ہے۔ انھوں نے پیر کے روز تہران میں نامہ نگاروں سے گفتگو میں امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے ساتھ مذاکرات کو سنجیدہ نوعیت کا حامل قرار دیا اور کہا کہ مذاکرات کا عمل، اس وقت بہت پیچیدہ مرحلے سے گذر رہا ہے۔ ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے جولان کے علاقے پر صیہونی حکومت کی حالیہ جارحیت اور مستقبل میں علاقے کی پیدا ہونے والی صورت حال سے متعلق کہا کہ صیہونی حکومت، ہمیشہ بحران کھڑا کرنے میں ہی اپنی حیات سمجھتی ہے اور ماضی میں بھی اس نے اپنی اسی پالیسی پر عمل کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ علاقے میں امن، صیہونی حکومت کیلئے تشویش کا باعث ہے بالکل اسی طرح کہ جیسے ایران کے جوہری مذاکرات، اس کیلئے ہمیشہ تشویش کا موجب بنے رہے ہیں۔ محمد جواد ظریف نے کہا کہ صیہونی حکومت کی یہ کوشش جاری ہے کہ جوہری مذاکرات کو کسی بھی طرح سے ناکام بنادیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ صیہونی حکومت کا کوئی بھی اقدام، نیا نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران ہر قسم کی جارحیت کی مذمت کرتا ہے اور اتوار کے روز کا بھی اس کا جارحانہ اقدام، قابل مذمت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲